غم جاناں کا دہلا
Poet: Bakhtiar Nasir By: Bakhtiar Nasir, Lahoreخزاں میں بہار کے نشاں ڈھونڈتا ہوں
یزداں کا مارا ہوں ‘ یزداں ڈھونڈتا ہوں
بکھر گیا ہے جو آشیاں ‘ ڈھونڈتا ہوں
انہی جلتے شراروں کا سماں ڈھونڈتا ہوں
میرے تبسم کے پردہ میں ہزار پردے
تیر جس سے چلا وہ کماں ڈھونڈتا ہوں
لوگ آرزوؤں کی اپنی تکمیل ڈھونڈتے ہیں
میں دل میں کوئی اپنے ارماں ڈھونڈتا ہوں
بازار میں دیکھو تو سنگ بہت سستے
میں کیوں پھر وہی سنگ آستاں ڈھونڈتا ہوں
سکھ چین دیا تھا ‘ درد لیا ہے
اسی درد کا اب درماں ڈھونڈتا ہوں
غم دوراں کے نہلے پہ غم جاناں کا دہلا
اس میں خدائی رمز نہاں ڈھونڈتا ہوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






