غموں نے کی ہے سازش انتقام لے رہے ہیں
Poet: Madni ali By: Madni Ali, Multanغموں نے کی ہے سازش انتقام لے رہے ہیں
ہے انتقام کی یہ حد،صبح شام لے رہے ہیں
اِک تو ہے کہ ہمارا نام مٹانے پر تلا ہوا ہے
اِک ہم ہیں کہ ہر حال تیرا نام لے رہے ہیں
دُکھوں کو پاس رکھنا اور سینے میں بسانا
تیری چاہتوں کے جذبے ہم سے یہ کام لے رہے ہیں
کہاں ملے گی منزل ہم مسافروں کو اِس طرح سے
تھوڑا آغاز لے رہے ہیں تھوڑا انجام لے رہے ہیں
میخانہ ہوا بے اثر،مے کشی بھی بے اثر ہے
رندوں سے پہلے ساقی،خود جام لے رہے ہیں
تیرے نام لیواؤں کا بھی عجب انداز ہے یہ
جو صبح کو نا لے سکے سرِ شام لے رہے ہیں
محبتوں کی سودے بازی اب عروج پر رہے گی
ہم ایک ہی دام کے بدلے کئی دام لے رہے ہیں
ہوئی ہے پتھروں کی بارش اور کیا بتاؤں علی
تیرے نام کا ہر دور میں هم الزام لے رہے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







