غنِیم سے بھی عداوت میں حد نہیں مانگی
Poet: Ahmed Faraz By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIغنِیم سے بھی عداوت میں حد نہیں مانگی
کہ ہار مان لی، لیکن مدد نہیں مانگی
ہزار لشکر کہ ہم اہلِ حرفِ زندہ نے
مجاورانِ ادب سے سند نہیں مانگی
بہت ہے لمحۂ موجود کا شرف بھی مجھے
سو اپنے فن سے بقائے ابد نہیں مانگی
قبول وہ جسے کرتا، وہ التجا نہیں کی
دُعا جو وہ نہ کرے مسترد نہیں مانگی
میں اپنے جامۂ صد چاک سے بہت خوش ہوں
کبھی عبا و قبائے خِرد نہیں مانگی
"شہید جسم، سلامت اُٹھائے جاتے ہیں"
جبھی تو گورکنوں سے لحد نہیں مانگی
میں سر برہنہ رہا پھر بھی سر کشیدہ رہا
کبھی کلاہ سے توقیرِ قد نہیں مانگی
عطائے درد میں وہ بھی نہیں تھا دِل کا غریب
فراز میں نے بھی بخشِش میں حد نہیں مانگی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






