فروری کی ٹھٹھرتی رات ہے اور تم نہیں ہو
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillفروری کی ٹھٹھرتی رات ہے اور تم نہیں ہو
ہلکی ہلکی مدھر برسات ہے اور تم نہیں ہو
کس کے دامن سے لپٹ کر بھلاؤں غم اپنا
بے رحم گردش حالات ہے اور تم نہیں ہو
پھول ہے رنگ ہے دل کی اداس دھڑکن ہے
روپ ہے اوج خیالات ہے اور تم نہیں ہو
کونسا ہم نے تیرے حسن سے مانگی صدیاں
زندگی دو گھڑی کی بات ہے اور تم نہیں ہو
ذہن میں گھومتی ہیں وہ تمنائیں اب بھی
سوچ میں وحشت جذبات ہے اور تم نہیں ہو
وہ تیرا مسکرانا ۔ روٹھنا ۔ پھر مان جانا
وہ ہر انداز میرے ساتھ ہے اور تم نہیں ہو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






