قسم لے لو
Poet: Lubna Kanwal By: Lubna Kanwal, karachiایک پل بھی چین سےگزارا ہو تو قسم لے لو
سوائے یادوں کے کوئی اور سہارا ہو تو قسم لے لو
اس نے باندھا تھا میرے ساتھ کچھ ایسا رشتہ
اس کے بعد کوئی رشتہ کسی سے باندھا ہو تو قسم لے لو
پہلے تو بات اور تھی جو تم پے حق جتاتے تھے
اب خود پر بھی کوئی حق ہمارا ہو تو قسم لے لو
ہر وقت دعا میں مانگی ہے اس کی خوشی
کسی اور کی خوشی مانگی ہو تو قسم لے لو
تم نے بولا تھا کہ تمہارے لب پہ میرا ہی نام ہو
اس کے بعد جو لیا اور نام کسی کا تو قسم لے لو
میں محبت کرتی ہوں اس سے اور کرتی رہوں گی
اب کسی سے نا ہوگی یہ محبت قسم لے لو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar








