قطعات
Poet: Sagar By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIجب وہ محوِ شباب ہوتے ہیں
آئینے بھی رُباب ہوتے ہیں
اُن تبسم فروش آنکھوں سے
سُوکھے پتے گلاب ہوتے ہیں
عاشقی میں حُسن کا انداز رہنا چاہیے
سوز میں ہلکا سا رنگِ ساز رہنا چاہیے
جانے کب دے دے صدا کوئی حِریم ناز سے
بزم والو گوش بر آواز رہنا چاہیے
دیوانہ بے خودی میں بڑی بات کہہ گیا
اِک حشر کی گھڑی ملاقات کوکہہ گیا
پہلا طرب شناس بڑا سنگدل تھا دوست
چیخیں تھیں جن کو جھوم کے نغمات کہہ گیا
جامِ رنگیں اُچھال کر چلیے
چال مَستی ڈھال کر چلیے
کُچھ تغیر کی بیکراں شکنیں
رُوئے ہستی میں ڈال کر چلئے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






