لا دواء پایا
Poet: Hafeez ur rehman By: hafeez ur rehman, Peshawar زخم رستا ہوا پایا دکھوں کو لا دوا پایا
جو تم نے غم ہمیں بخشے مداوا اُن کا نہ پایا
لگاتے ہو نیا چرکا ہمیشہ جب بلاتے ہو
عجب غمخوار ہو تم سا کوئی غمخوار نہ پایا
جو دیتے ہو ہمیں ہر بار غم پھر بھول جاتے ہو
نہیں لیتے کبھی پھر نام بہت خُدار ہے پایا
غموں کی بھول بھلیوں میں کیا ہے گم مجھے ایسا
بہت ڈھونڈا نہیں ملتا سُراغ اپنا نہیں پایا
بنا کے دُھول گلیوں کی ہمیں تو رکھ دیا تم نے
کہ اُڑتا خاک کو ہم نے ہے اپنی جا بجا پایا
بہت ہوتے ہیں جب وہ مہرباں مجھ کو رُلاتے ہیں
کہ بہتے آنسووں میں ڈوبتا اپنے کو ہے پایا
رہی حسرت کہ میرے درد کو محسوس وہ کرتے
وہ کرتے بھی تو کیونکر بے حسوں سا دل ہے جو پایا
تھی بے بسی کی انتہا تھے سب تماشا دیکھتے
اُس بے بسی میں اپنے کو مرتے ہئے پایا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






