لاسٹ سین
Poet: شافعہ سباس عباسی By: Shafia Subas Abbasi, Islamabadاسے جب دیکھنا چاہا
نجانے خوف کیسا تھا
یا بس انجان ہلچل تھی
فقط آواز دل نے دی
سنو یہ آخری سیں ہے
دکھا ہے جو یہاں تجھ کو
فقط یہ اک فسانہ ہے
بہت سوچا بہت سوچا
سمجھ میں کچھ نہیں آیا
یا شاید تنگ مجھ سے تھا
نجانے ایسا کیا مجھ میں
جو اک ہلچل لگی دل میں
وہ اک عادت
وہ عادت اس کے سونے تک مرا جو ساتھ دیتی تھی
میں متلاشی تھی اس کی ہی
نجانے کیوں
یہ چاہت تھی کروں باتیں مگر نہ بات کرتی تھی
نجانے کیسی لذت تھی
یہ انتظارِ محبت کی
ہاں تھا اک حوصلہ ایسا
جو سب کچھ بھی کراتا تھا
بہت دل میں یہ خواہش تھی
لگن اور جستجو بھی تھی
مگر جانے کیوں صلہ کچھ نہ ملا مجھ کو
اچانک کال آئی اک
وہ ایسی کال کہ جس نے سبھی کچھ راکھ کر ڈالا
مرے جذبوں کی شدت کو بھی پل میں راکھ کر ڈالا
عقل اب تک پریشاں ہے
نجانے کیوں میں زندہ ہوں
سمجھ مجھ کو ہے اب آیا
یہی تو آخری سیں ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






