لبوں پہ میرے سوال آیا نہیں کبھی بھی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلالبوں پہ میرے سوال آیا نہیں کبھی بھی
تجھے تو میرا خیال آیا نہیں کبھی بھی
یہ زندگی کے سفر کٹھن ہیں میں جانتی ہوں
مری نظر میں ملال آیا نہیں کبھی بھی
میں اپنے قلزم میں ڈوب جاؤں گی تیری خاطر
کہ زندگی کو کمال آیا نہیں کبھی بھی
ہجومِ خواہش میں کھو گیا ہےمرا قبیلہ
کسی پہ ایسا زوال آیا نہیں کبھی بھی
یہ اجڑی اجڑی سی ، سونی سونی سی زندگی پر
بتا کبھی بھی جمال آیا نہیں کبھی بھی
وہ مجھ سے پہلے سا پیار مانگے نہ اب ملے گا
کہ وشمہ ؔ ماضی کو حال آیا نہیں کبھی بھی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






