لحد میں تمہاری یاد لئے
Poet: UA By: UA, Lahoreوہ وقت کبھی تو آئے گا اک ساتھ ہوں گے ہم
تمہیں پا کر بھلا دیں گے دنیا کے سارے غم
منزل کی جستجو میں ہو کے ہم قدم
پیہم سفر کریں گے لیں گے کہیں نہ دم
جب تک کئے گئے وعدے وفا نہ کرلیں
جب تک نہ پا لیں اپنے دل کی مراد ہم
شب کو محو گفتگو رہے ماہتاب اور ہم
اسکی ہے چاندنی ہمارا چاند ہے صنم
اک روز چلے آئیں گے دہلیز دار پہ
راہ وفا میں اپنا سر کرنے کو قلم
تمہاری بزم سے اٹھ جائیں دل نہیں چاہتا
ہو جائے نہ کوئی خطا یوں لوٹ آئے ہم
مر کر بھی وفا داریاں نہ چھوڑ پائیں گے
تیرے لئے دعائیں کرتے رہیں گے ہم
عظمٰی قضا کے بعد بھی اپنی وفا رہی
لحد میں تمہاری یاد لئے جیتے رہے ہم
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






