لوٹ آؤ نہ
Poet: نیہا ثمن ملک By: Nehamalik, Gujratسانسیں رک جاتی ہے تیرے نہ آنے سے
کچھ یاد نہیں رہتا تیرے نہ آنے سے
سنولوٹ آؤ نہ
میری طبیعت خراب رہتی ہے
کچھ حوش نہیں رہتا
میری سانس میں سانس آ جاتی ہے
میں جب تم کو دیکھ لیتی ہوں
سنو لوٹ آؤ نہ
جن راہوں پہ ملتے تھے ہم ہر روز
وہ راہیں مجھ سے سوال کرتی ہے
سنو لوٹ آؤ نہ
وہ چاند جس میں تم مجھ کو دیکھتے تھے
وہ چاند آجکل اداس رہتا ہے
سنو لوٹ آؤ نہ
وہ تجھ کو دیکھ کر میرے ہونٹ مسکرانے لگتے تھے
اب صدیوں سے خاموش رہنے لگےہے
سنو لوٹ آؤ نہ
آ جاؤ جب تک میں زندہ ہوں
پھر تو رو رو کے کہو گے
سنو لوٹ آؤ نہ
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






