لپٹے دھوئیں کی لہر میں سُلگ رہے ہو زہر میں
Poet: محمد اطہر طاہر By: Athar Tahir, Haroonabadآئے ہو کیسی بحر میں؟
لپٹے دھوئیں کی لہر میں
سُلگ رہے ہو زہر میں
لگتے ہو کسی قہر میں
لُٹے ہو جیسے سحر میں
وحشت ہے تیری ذات میں
دہشت ہے تیری بات میں
ہیبت ہے تیری رات میں
سانسیں تیری اٹک رہی ہیں
اجل ہے تیری گھات میں
یہ زخم ہیں ماہ و سال کے
یا نشان ہیں رنج و ملال کے
کیوں بیٹھے ہو ہار کے؟
زخموں پہ پردہ ڈال کے
چہرے پہ لہریں درد کی
رنگت ہے تیری زرد سی
یہ کیسے کرب میں ہو تم؟
کسی کے درد میں ہو تم
جسے تم کہہ بھی نہیں سکتے
کہے بن رہ بھی نہیں سکتے
ملا ہے درد تمہیں کیسا؟
جسے تم سہہ بھی نہیں سکتے
کسی کو یاد کرتے ہو
کوئی فریاد کرتے ہو
اُلجھے ہوئے لگتے ہو
گھبرائے ہوئے ہو
یہ آگ ہے کیسی؟
جو دہکا ئے ہوئے ہو
لگتا ہے محبت کے
ٹھکرائے ہوئے ہو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






