ماؤں کے کتنے چشمِ چراغ بُجھ گئے ہیں
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaناسمجھ سوالوں کے جوابوں کو پورا کرنا تھا
مجھے زندگی کی کتابوں کو پورا کرنا تھا
ظالموں نے کیا کیا کہ چھین لی سانسیں میری
ابھی گلستانِ پاکِ گلابوں کو پورا کرنا تھا
ماؤں کے کتنے چشمِ چراغ بُجھ گئے ہیں
خواب دیکھنے تھے ابھی خوابوں کو پورا کرنا تھا
کم عمری میں حق چھِن گیا جینے کا
اور مجھے بہت سے ثوابوں کو پورا کرنا تھا
بنانا تھا مجھے ساگر وسیع تمناؤں کا
پل پل کے بہت حبابوں کو پورا کرنا تھا
افلاک میں کرنا تھا سفر مجھے اِک روز
سواری کیلئے کچھ عقابوں کو پورا کرنا تھا
خود ہی لکھ دیا میرا نام شہداء میں نہالؔ
مجھے اپنے لئے اور انتخابوں کو پورا کرنا تھا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






