مارگلہ کی پہاڑیاں
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.Aآج پھر بکھرا ہواؤں میں محبتوں کا سفر
گونج ہے پھر سے فضاؤں میں کہ برپا ہے حشر
پھر وہی لوگ جو اک آس میں تھے ڈوبے ہوئے
وہی ہنستے ہوئے سبھی چہرے تھے پھر خاک ہوئے
خون کے دریا میں روانی ہے کہ جلتا ہے بحر
بھڑکتی آگ بھی دیوانی ہے کہ چھوٹا ہے نگر
آسماں روتا ہے مارگلہ میں ہے ماتم برپا
خوف کی وادی میں ہوا آج پھر ماتم برپا
ماؤں کے سینوں میں بہنوں کی آہوں میں ماتم برپا
باپ کے کندھوں پے پڑے بوجھ پے ماتم برپا
ٹوٹی چوڑیوں کی صداؤں میں ہے ماتم برپا
سسکتی آہوں میں یتیموں کی ہے ماتم برپا
الوداع کرتے لبوں پے ہے ماتم برپا
بے سکونی کی فضاؤں میں ہے ماتم برپا
ننھے ہاتھوں کی دعاؤں میں ہے ماتم برپا
اجڑی گودوں کی پناہوں میں ہے ماتم برپا
میرے الله میرے ان لوگوں کی بخشش کرنا
معاف کرتے ہوئے ان سب کے درجے بلند کرنا
آمین ثم آمین
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






