ماں سے دوری بڑھانی پڑی
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , K.S.Aمجھے اپنی ماں سے
دوری بڑھانی پڑی
نا چاہیتے ہوئے بھی
آںکھوں کی نمی چھپانے پڑی
بتانے کو تو کوئی خوشی
نا تھی میرے پاس
پھر مجھے اک من گھڑایت
کہانی بنانی پڑی
میری نرمی سے کہیں
سمجھ نا جائے میرے اندر کا غم
پھر مجھے اپنی زبان پر
تلخی لانی پڑی
بہت سکون ملا آج
ماں کی گود میں لیٹ کر
آنسو ضبط کر کے لیکن
مجھے روح تک نہلانی پڑی
خنجر سے کٹا سینہ ۔
چاک چاک دکھوں سے
ماں کی خاطر مجھے
مسکان لبوں پر سجانی پڑٰی
وہ گڑیا ۔ وہ بچپن
کہاں سے لاؤں اب لکی
میرے اندر چلتے طوفان کو
ہنٹوں کی خاموشی بنانی پڑی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






