مجھ کو بھی گلہ نہ تھا اور اس کو بھی جانا تھا
Poet: Ayesha Arshad Khokhar By: Ayesha Arshad Khokhar, Satrah Sialkotمجھ کو بھی گلہ نہ تھا اور اس کو بھی جانا تھا
یوں اچانک بچھڑنے کا بہت اچھا بہانا تھا
اس کے لوٹنےکی امید تھوڑی بھی اگر ہوتی
میں نے آواز دینی تھی اسے واپس بلانا تھا
ہیں درد کے لمحے ہم گلہ نہیں کرتے
یوں اچانک بدل کر وقت نے آزمانا تھا
بہت درد میں بھی ہم نے یونہی لب سی لیے
ہماری سادہ کہانی تھی بہت خاموش فسانہ تھا
کسی بات کا اس کو کیوں الزام دوں میں
بہت معصوم تھا وہ اور تیز زمانہ تھا
معلوم جو ہوتا اک دن بچھڑ جایں گے
جی بھر کے لڑ نا تھا اور خوب سنانا تھا
بس جاتے ہوے اس نے جو پلٹ کر دیکھا
اسی بات کا ڈر تھا اسی با ت نے رلانا تھا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







