مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہی
Poet: Kaif Ahamad Siddiqui By: Siddiqui, Sangharمجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہی
اور کھیلوں سے محبت ہی سہی
میں نے اس سے تو بڑے کام لیے
آپ کو کھیل سے وحشت ہی سہی
امتحاں سے میں نہیں گھبراتا
فیل ہونا مری قسمت ہی سہی
پڑھنے والوں نے بھی کیا کچھ نہ کیا
نقل کرنا مری عادت ہی سہی
میں نے تو صرف گزارش کی تھی
سب کی نظروں میں شکایت ہی سہی
میں کسی سے نہ لڑوں گا ہرگز
دب کے رہنا مری فطرت ہی سہی
میں نہ چھوڑوں گا شرافت کا چلن
یہ شرافت مری ذلت ہی سہی
کبھی چومے گی قدم خود منزل
آج ہر گام پہ دقت ہی سہی
یہ مصیبت بھی بڑی دل کش ہے
زندگی ایک مصیبت ہی سہی
کیفؔ اک دن یہ بنا دے گی تجھے
شعر گوئی تری عادت ہی سہی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






