مجھے دکھ دو
Poet: Mustafa Sahil By: Mustafa Sahil, Islamabadبے توقیر ہی مسند سے اتارا جاؤں گا
مجھے دکھ دو وگرنہ میں مارا جاؤں گا
مجھ پہ گزریں اب سبھی غم یہی بہتر ہے
میں اسی غم کی نسبت سے پکارا جاؤں گا
مجھ سے چھینو مجھے مارو اور نیلام کرو
میں یوسف نہیں کہ مصر پہ اتارا جاؤں گا
مینے ہر روز ہر در سے ٹھوکر کھانی ہے
ہر محفل سے ہوکے اب بیچارہ جاؤں گا
خوب نوچے گی تواتر سے یہ ذیست مجھے
لاش مرقد کو پہنچے گی سنوارا جاؤں گا
تم نے بدلہ ہے... اپنے نام کا اگلا حصہ
میں ہر دور تیری نسبت ہی پکارا جاؤں گا
گر تم کو ہو صدقہ کسی مفلوس کا درکار
میں تم پر میری جان پورا ہی وارا جاؤں گا
مجھے دکھ دو دکھ دو وگرنہ....
میں مارا جاؤں گا، مارا جاؤں گا.....
More Sad Poetry






