مجھے رنج ہے یہ برا ہوا
Poet: Iqbal Azeem By: Kashif Malik, lahoreُمجھے اپنے ضبط پے ناز تھا سرے بزم رات میں کیا ہوا
میری آنکھ کیسے چھلک گئی مجھے رنج ہے یہ برا ہوا
میری زندگی کے چراغ کا مزاج کوئی نیا نہیں
کبھی روشنی کبھی دیرگی نا جلا ہوا نا بجھا ہوا
مجھے جو بھی دشمنِ جان ملا وہی پختہ کارے جفا ملا
نا کسی کی ضرب غلط پڑی نا کسی کا تیر خطا ہوا
مجھے آپ کیوں نا سمجھ سکے خود اپنے دل سے پوچھئے
میری داستانِ حیات کا تو ورق ورق ہے کھلا ہوا
گزرے جو میرے سامنے سے نظر بچا کے ابھی ابھی
یہ میرے شہر کے لوگ تھے میرے گھر سے گھر ہے ملا ہوا
مجھے اک گلی میں پڑا ہوا کسی بدنصیب کا خط ملا
کہیں خون دل سے لکھا ہوا کہیں آ نسوؤں سے مٹا ہوا
ہمیں اس کا کوئی حق نہیں کہ شریک بزم خلوص ہوں
نا ہمارے پاس نقاب ہے نا کچھ آستیں میں چھپا ہوا
ہمیں اپنے گھر سے چلے ہوئے سرِ راہ عمر گزر گئی
کوئی جستجو کا صلہ ملا نا سفر کا حق ادا ہوا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







