مجھے متاثر کرتا ہے
Poet: Syed Harris Ahmed By: Syed Harris Ahmed, Counselling, Event Managementدن بھر کی محنت کے بعد
چند روپے اکھٹے کر کے
ان سے دال روٹی
اپنی اولاد کو کھلا کر
ماں کا خالی پیٹ سونا
مجھے متاثر کرتا ہے
کھلے آسماں میں
جب سج جاتی ہیں
رنگ برنگی پتنـگیں
اور جب وہ کٹ جائیں
تو انھیں
بچوں کا ہنستے ہوئے لوٹنا
مجھے متاثر کرتا ہے
اپنی لگن میں
سب کچھ بھلائے
داڑھی خراش کرتے ہوئے
زمین پہ گرتے ہوئے کنگھے کو
اس نائی کا چومنا
مجھے متاثر کرتا ہے
خاموش جہاں میں
قبروں کے درمیان
اپنے پیاروں کو یاد کر کے
لوگوں کا بے اختیار رونا
مجھے متاثر کرتا ہے
اولڈ ایج ھوم میں
کچھ ایسی مائیں
جو نکالی گئیں اپنے گھروں سے
اپنےہی پیاروں کے ہاتھوں
انکی نمازوں میں انہی اپنوں کے لئے
گڑ گڑا کر دعائیں مانگنا
مجھے متاثر کرتا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






