مجھے یاد ہے
Poet: Waheed Mughal By: Hafiz Muhammad Waheed, Narang Mandiپچھلے برس برسات کا موسم
مہکی مہکی ہر بات کا موسم
حسیں لمحوں کی یادیں بھی
بھیگی بھیگی ملاقاتیں بھی
تنہائی میں ہنستے رہنا بھی
ذراذرا گھبرانا بھی
چوری چوری منڈیر پہ آکر
تمہیں سامنے نا پا کر
بے چین نگاہوں کا ہونا بھی
چپکے چپکے رونا بھی
خود سے باتیں کرنا بھی
کچھ کچھ کہتے کہتے ڈرنا بھی
رات کے پچھلے پہر تک
کبھی کبھی سحر تک
تکیے تلے رکھے ہوئے
خط تمہارے لکھے ہوئے
پڑھنا بھی،تمہیں یاد کرنا بھی
کئی کئی راتیں جاگتے رہنا
تیرے عکس پیچھے بھاگتے رہنا
مجھے یاد ہے مجھے یاد ہے
پچھلے برس برسات کا موسم
مہکی مہکی ہر بات کا موسم
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






