مجھۓ ستارے دیں صدائیں تو میں کیوں سنوں
Poet: M,masood By: M,masood, Nottinghamمجھۓ ستارے دیں صدائیں تو میں کیوں سنوں
اگر چاند ہے میرے پاس تو میں تارے کیوں چنوں
اور چہرہ یہ گلاب ہے آنکھیں بھی ایک کتاب ہے
اگر تو میرے پاس ہے تو کِسی اور کیوں دیکھوں
تم میری آنکھوں سے خود ہی کو دیکھ لیتےاگر
یہ جلن نہ ہوتی کبھی تمہیں اتنا میں سوچوں
تم نہ شامل کرو غیروں میں خود ہی کو اتنا ہمدم
آو میرے دل سے پوچھو کہ کیا تجھ کو سمجھوں
میں جہاں جدھر بھی جاوُں بس تجھ کو ہی پاوُں
میرا دل کہے مجھے میں تجھۓ دیکھتا ہی جاوُں
میں دل سے اپنے تیرے نام کی ایک غزل لکھ دوں
میرے چاند تُو تو ایسا خوبصورت دلنشیں چاند ہے
جب بھی میں دیکھوں تجھے تو کمال اوصاف ہے
یتری خوشی کے واسطے میں اپنی جان بھی دوں
مجھۓ ستارے دیں صدائیں تو میں کیوں سنوں
اگر چاند ہے میرے پاس تو میں تارے کیوں چنوں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






