محبت اب نہیں ھوگی - مزید اشعار کے ساتھ
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadمحبت روگ ہے جاناں محبت اب نہیں ہوگی
محبت اک تماشہ ہے شکایت اب نہیں ہوگی
عمر ساری پوجا تھا حسن کے ان خداؤں کو
محبت گر عقیدت ہے عقیدت اب نہیں ہوگی
فسانے بہت ہیں بکتے پرانے کئی زمانے سے
محبت اک روایت ہے تو روایت اب نہیں ہوگی
چُنا تھا حسن دیواروں میں یہ کہہ کر بھی اکبر نے
محبت گر بغاوت ہے بغاوت اب نہیں ہوگی
ٹوٹے جب تیر مرزے کے، پکارا وہ بھی یہ آخر
محبت گر رفاقت یہ رفاقت اب نہیں ہوگی
لکھا اک لفظ محبت تھا مجنوں نے مٹا ڈالا
محبت گر عنایت ہے عنایت اب نہیں ہوگی
اُٹھا کرپحول کی پتی نزاکت سے مثل ڈالی
محبت گر نزاکت ہے نزاکت اب نہیں ہوگی
جلا ساجد جو پروانہ پکارا اس نے یہ آخر
محبت گر عبادت ہے عبادت اب نہیں ہوگی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







