محبّت کا جنوں ہوا تمام اور ترک تعلق تک بات آ پہنچی ہے
Poet: H.M. Salman Amin By: H.M. Salman Amin,محبّت کا جنوں ہوا تمام اور ترک تعلق تک بات آ پہنچی ہے
کتنا گہرا تعلق تھا ہمارا مگر کہاں تک بات آ پہنچی ہے
پہلے نیند نہ آتی تھی ان کی نازک بانہوں کے حصار بن
آج نام بھی گوارا نہیں ان کا یہاں تک بات آ پہنچی ہے
فدا تھے ہم ان پہ دل و جاں سے اور مانتے تھے انکی ہر اک بات
مگر ان کی یادوں کو اپنی زندگی سے مٹانے تک بات آ پہنچی ہے
پہلے سوچتے تھے کیسے گزرے گی ہماری زندگی انکے بغیر
آج انکی پرانی تصویروں کو جلانے تک بات آ پہنچی ہے
لوگ پوچھتے ہیں ایسا کیا ہوا تھا آخر ہمارے درمیاں
کیسے بتاؤں انکی ضد کی وجہ سے جدائی تک بات آ پہنچی ہے
اے سلمان اگر وہ خوش ہے تیرے بغیر بھی تو کیا ھوا
اب تو کسی اور سے دل لگانے تک بات آ پہنچی ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






