مصائب کو چھپانا جانتا ہے
Poet: شاداب By: شاداب, Dera Ghazi Khanمصائب کو چھپانا جانتا ہے
یہ لڑکا مسکرانا جانتا ہے
تجھے وہ حور بھی لکھتا رہا ہے
قلابوں کو ملانا جانتا ہے
انا کو قتل کر دیتا ہے اپنی
وہ روٹھوں کو منانا جانتا ہے
تمہیں تو ہم اکیلے جانتے ہیں
ہمیں سارا زمانہ جانتا ہے
تعلق ختم کر ڈالا ہے جس نے
روابط کو نبھانا جانتا ہے
More Ajiz Kamal Rana Poetry
مشکل کو ذرا چھوڑ کے آسان کے بارے مشکل کو ذرا چھوڑ کے آسان کے بارے
کچھ سوچ مری تنگئ دامان کے بارے
اک تیرے بلاوے پہ بہل جاتا ہے ورنہ
معلوم ہے مجھ کو دل نادان کے بارے
آغاز محبت میں توکل ہے ضروری
مت سوچ کسی فائدہ نقصان کے بارے
اس شہر میں ہر شخص کو سونے کی پڑی ہے
حالانکہ بتایا بھی ہے طوفان کے بارے
اس بستیٔ خوش آب کی پر کیف فضائیں
کب سوچنے دیتی ہیں پرستان کے بارے
کھونے کی تجھے مجھ کو وہی فکر ہے لاحق
ہوتی ہے مسافر کو جو سامان کے بارے
عاجزؔ تری دنیا کے یہ انسان عجب ہیں
انسان کو بہکاتے ہیں یزدان کے بارے
کچھ سوچ مری تنگئ دامان کے بارے
اک تیرے بلاوے پہ بہل جاتا ہے ورنہ
معلوم ہے مجھ کو دل نادان کے بارے
آغاز محبت میں توکل ہے ضروری
مت سوچ کسی فائدہ نقصان کے بارے
اس شہر میں ہر شخص کو سونے کی پڑی ہے
حالانکہ بتایا بھی ہے طوفان کے بارے
اس بستیٔ خوش آب کی پر کیف فضائیں
کب سوچنے دیتی ہیں پرستان کے بارے
کھونے کی تجھے مجھ کو وہی فکر ہے لاحق
ہوتی ہے مسافر کو جو سامان کے بارے
عاجزؔ تری دنیا کے یہ انسان عجب ہیں
انسان کو بہکاتے ہیں یزدان کے بارے
منتصیر
جھوٹا ہے جانتا ہوں مگر اس کے باوجود جھوٹا ہے جانتا ہوں مگر اس کے باوجود
رونق لگائے رکھتا ہے اک خواب کا وجود
اس نے کتاب کھول کے رکھ دی ہے شیلف میں
میری قبائے وصل کو کب مل سکا وجود
اس بات سے ہی دیکھ لیں قربت ہمارے بیچ
پہنا ہے میں نے روح پہ اس شخص کا وجود
پھر میں کروں نہ ناز کیوں اپنی بڑائی پر
یزداں نے اپنے ہاتھ سے سینچا مرا وجود
اس میں ہر ایک بات ہے پر بولتا نہیں
پایا ہے میرے یار نے تصویر سا وجود
کیسے کرے گا سامنا دنیا کا اب کمال
ذلت کی گہری کھائی میں پھینکا گیا وجود
رونق لگائے رکھتا ہے اک خواب کا وجود
اس نے کتاب کھول کے رکھ دی ہے شیلف میں
میری قبائے وصل کو کب مل سکا وجود
اس بات سے ہی دیکھ لیں قربت ہمارے بیچ
پہنا ہے میں نے روح پہ اس شخص کا وجود
پھر میں کروں نہ ناز کیوں اپنی بڑائی پر
یزداں نے اپنے ہاتھ سے سینچا مرا وجود
اس میں ہر ایک بات ہے پر بولتا نہیں
پایا ہے میرے یار نے تصویر سا وجود
کیسے کرے گا سامنا دنیا کا اب کمال
ذلت کی گہری کھائی میں پھینکا گیا وجود
منتصیر
یہ زندگانی کسی کی یادوں سے متصل ہے یہ زندگانی کسی کی یادوں سے متصل ہے
سو اس کے جانے پہ دل مرا مجھ سے مشتعل ہے
خصوصی باتیں جو شاعری کی ہیں ایک ان میں
یہ خون پیتی ہے اور پیتی بھی مستقل ہے
ہمارا ہر دن کتاب کا ایک باب ہے اور
کتاب وحشت کی داستانوں پہ مشتمل ہے
ہے ایک خواہش کہ بہتے پانی میں جو ہے مضمر
ہے ایک حسرت کہ جو کناروں سے منفصل ہے
کسی نے سب کا نصیب لکھا ہے اور عاجزؔ
ہماری قسمت میں شاعری ہے جو جاں گسل ہے
سو اس کے جانے پہ دل مرا مجھ سے مشتعل ہے
خصوصی باتیں جو شاعری کی ہیں ایک ان میں
یہ خون پیتی ہے اور پیتی بھی مستقل ہے
ہمارا ہر دن کتاب کا ایک باب ہے اور
کتاب وحشت کی داستانوں پہ مشتمل ہے
ہے ایک خواہش کہ بہتے پانی میں جو ہے مضمر
ہے ایک حسرت کہ جو کناروں سے منفصل ہے
کسی نے سب کا نصیب لکھا ہے اور عاجزؔ
ہماری قسمت میں شاعری ہے جو جاں گسل ہے
موسی
عشق میں نام کمائے گا تو چھا جائے گا عشق میں نام کمائے گا تو چھا جائے گا
تو کبھی دشت میں آئے گا تو چھا جائے گا
بات سے بات گھمانے پہ تجھے داد ملی
پھر تو تو شعر سنائے گا تو چھا جائے گا
رقص فرقت میں کروں گا تو کیے جاؤں گا
ابر وحشت کا جو چھائے گا تو چھا جائے گا
وصل میں جان سے جائے گا تو مر جائے گا
ہجر میں جان سے جائے گا تو چھا جائے گا
آنکھ میں خواب رچانے کی نہیں ہے قیمت
آنکھ میں خواب رچائے گا تو چھا جائے گا
تو کبھی دشت میں آئے گا تو چھا جائے گا
بات سے بات گھمانے پہ تجھے داد ملی
پھر تو تو شعر سنائے گا تو چھا جائے گا
رقص فرقت میں کروں گا تو کیے جاؤں گا
ابر وحشت کا جو چھائے گا تو چھا جائے گا
وصل میں جان سے جائے گا تو مر جائے گا
ہجر میں جان سے جائے گا تو چھا جائے گا
آنکھ میں خواب رچانے کی نہیں ہے قیمت
آنکھ میں خواب رچائے گا تو چھا جائے گا
ظفر
زمانے بھر کا جو سارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے زمانے بھر کا جو سارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے
یقیں کرو جو تمہارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے
یہ ساری دنیا ہمارے دکھ سے بھری پڑی ہے
یہ چاند سورج ستارہ دکھ ہے ہمارا دکھ ہے
تمہاری نسبت سے ہی جو مجھ کو ملا ہوا ہے
یہ ہجر بھی کتنا پیارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے
یہ دنیا گویا ہے ایک بلڈنگ پہ کام جاری
ہے اس میں شامل جو گارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے
دکھوں کا کوئی بھی استعارہ نہیں ہے ممکن
دکھوں کا ہر استعارہ دکھ ہے ہمارا دکھ ہے
ہماری دنیا ہے ایک دریا کے جیسی عاجزؔ
وہ جس کا ہر اک کنارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے
یقیں کرو جو تمہارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے
یہ ساری دنیا ہمارے دکھ سے بھری پڑی ہے
یہ چاند سورج ستارہ دکھ ہے ہمارا دکھ ہے
تمہاری نسبت سے ہی جو مجھ کو ملا ہوا ہے
یہ ہجر بھی کتنا پیارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے
یہ دنیا گویا ہے ایک بلڈنگ پہ کام جاری
ہے اس میں شامل جو گارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے
دکھوں کا کوئی بھی استعارہ نہیں ہے ممکن
دکھوں کا ہر استعارہ دکھ ہے ہمارا دکھ ہے
ہماری دنیا ہے ایک دریا کے جیسی عاجزؔ
وہ جس کا ہر اک کنارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے
الطاف






