مظفر مجھ سے کہتا تھا
Poet: Zulqarnayn Awan By: Zulqarnayn Awan, Lahoreمظفر مجھ سے کہتا تھا
کہ تیری سوچ میں ہے کیا؟
یہ تو کیا لکھتا رہتا ہے
تجھے نہ جان پایا ہوں
کہا میں نے ہنس کے یار
تو شاید سچ ہی کہتا ہے
میں بھی کہاں خود کو
ٹھیک سے پہچان پایا ہوں
بنایا عکس جو میں نے
الگ ہی شخص وہ نکلا
میری سوچوں کے بلکل ہی
برعکس وہ نکلا
میں جتنا پاس جاتا ہوں
وہ اتنا دور جاتا ہے
ہاں اس کے ایسا کرنے سے
میرا دل ٹوٹ جاتا ہے
میں جتنی بات کرتا ہوں
نظر انداز کرتا ہے
خدا جانے وہ کس کے کہنے پہ
یہ کام کرتا ہے
مظفر مجھ سے کہتا تھا
تو ٹینشن چھوڑ دے ساری
جو تو نے روگ پالا ہے
اب اس سے تو کنارہ کر
ہاں اس وقت اس کی باتیں
مجھکو کڑوی لگتی تھیں
مگر اب سوچتا ہوں میں
وہ شاید سچ ہی کہتا تھا
کوئی آنسو میری آنکھوں سے
جب چپ چاپ بہتا ہے
مجھے تب یاد آتا ہے
مظفر مجھ سے کہتا تھا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






