موت رقصاں ہے
Poet: قیس By: قیس, Islamabadلہولہان وطن کا یہ سماں ہے
کہ موت بھی اب لرزاں ہے
لٹایا تھا جو اس سرزمیں پر
وہی خون آج کتنا ارزاں ہے
اب کیا پوچھوں کافروں سے
مرا قاتل کلمہ پڑھتا مسلماں ہے
حیراں ھوں ان دستاروں کے پیچھے
نفرتوں کا یہ کیسا سلسلہ رواں ہے
ظلم، ظالم اور مظلوم
قتل، قاتل اور مقتول
جبر، جابر اور مجبور
ہر زبان پر بس یہی بیاں ہے
جوان بیٹے کی لاش کو گھورتا
یہ بوڑھا باپ آج کتنا ناتواں ہے
خشک آنکھوں، بےآواز آہوں میں
ماں کی اجڑی گود کا ماتم پنہاں ہے
مگر اے امیر شہر!
تم نہ آزردہ ھونا
تم نہ بےچین ھونا
اس سارے قصّے سے
تم کو کیا لینا دینا
تم جشن مناؤ محلوں کے باسیوں
کیا ہوا جو آج شہر میں موت رقصاں ہے
( قیس )
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






