موت سے میری اس کا تعلق ہو گا
Poet: شفق By: Shafaq, Lahoreچھوڑ کر مجھے وہ اپنی دنیا میں خوش ہے
یہی غم کیا میرے مرنے کے لیئے کم ہے
بھلا کر مجھے وہ خوش ہو گا
کیا اسے بھی میرے جانے کا غم ہو گا
زندگی نے مجھے اس کا ساتھ نہ دیا
کیا موت سے میری اس کا کوئی تعلق ہو گا
یہ سوچ کر میں نے اپنی جان دینی ہے
میری موت نے میری وفا کی گواہی دینی ہے
چاہت اس سے کتنی کیسے اس کو بیان کروں میں
اس نے کب بھلا میری کوئی بات مانی ہے
بغیر اس کے میری زندگی ادھوری ہے
تو پھر کیوں میرا جینا ضروری ہے
دے کر دل اس کو سمجھا تھا وہ ہمارا ہے
نہیں اگر دل سے اس کی تسلی خالی
تو لے لے وہ جان بھی ہماری
ہم نے تو سب کچھ اس پر وارا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






