موم کو پتھر بنایا کیسے ہے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaکیا بتاؤں موم کو
پتھر بنایا کیسے ہے
اس نے ہمارے
دل کو دکھایا کیسے ہے
دے کر زخم پے زخم
وہ کھلکھلایا کیسے ہے
ہمیں کانٹوں پے چلتا
دیکھ کر وہ گھبرایا کیسے ہے
کیا بتاؤں
ہم سے بے خبر ہوکر
اس نے خود کو
کاموں میں الجھایا کیسے ہے
ہو کر ہم سے ہی خفا
اس نے ہمیں آزمایا کیسے ہے
کیا بتاؤں
آنکھوں کو پیاس دے کر
اس نے دیدار پے ترسایا کیسے ہے
خود ہی کر کے
اقرار ہم سے پھر
اس نے بھلایا کیسے ہے
کیا بتاؤں
ہماری صداؤں پے
اس نے ہمیں ٹھکرایا کیسے ہے
ہماری محبتوں پے
تلخی کرنے والے نے
ہمیں ستایا کیسے ہے
دیکھا کر خواب سہانے پھر
حقیقت کو جھٹلایا کیسے ہے
ہم نے جیسے
اپنے ہر لفظ کا عنواں کہا
وہی ہمیں اپنا کہنے سے
شرمایا کیسے ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






