مَیں پیاس کا دریا ہوں، میری پیاس بُجھا دو
Poet: Sain Naz Hussain Naz By: Najeeb Ur Rehman, Lahoreمَیں پیاس کا دریا ہوں، میری پیاس بُجھا دو
جلتا ہوا صحرا ہوں، میری پیاس بُجھا دو
ساون کی طرح ٹوٹ کے برسو کبھی مُجھ پر
مَیں پیار کا پیاسا ہوں، میری پیاس بُجھا دو
ٹوٹا ہوا سپنا ہوں، مَیں ٹوٹا ہوا دِل ہوں
ٹوٹی ہوئی آشا ہوں، میری پیاس بُجھا دو
جس راہ پہ مسافر کوئی آیا نہ گیا ہو
سنسان سا رَستہ ہوں، میری پیاس بُجھا دو
ناکامِ محبت ہوں، مَیں ناکامِ وَفا ہوں
تِشنہ تمنا ہوں، میری پیاس بُجھا دو
مُبہم سی کوئی آس کہ مرنے نہیں دیتی
جیتا ہوں نہ مرتا ہوں، میری پیاس بُجھا دو
مَیں شمعِ محفل ہوں، ہر اِک رات جَلا ہوں
بھڑکا ہوا شعلہ ہوں، میری پیاس بُجھا دو
بے تاب ہوں مَیں ماہیِ بے آب کی مانند
رِہ رِہ کے تڑپتا ہوں، میری پیاس بُجھا دو
بچھڑے ہوئے ساجن سے کوئی ناز مِلا دے
ملنے کو تَرستا ہوں، میری پیاس بُجھا دو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







