مُجھے جان لینا چاہیے تھا
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIوہ مُجھے اس وقت ملا
جب پہاڑوں پر برف پگھل رہی تھی
چیری کے درختوں پر اوّلین شگوفے پُھوٹ رہے تھے
نوخیز خوشبو سے سارا باغ روشن تھا
بلبل نے بس ابھی چہکنا شروع کیا تھا
اپنے بازوؤں میں لئے
وہ مُجھے پھولوں بھری وادی میں
گھومتا رہا
ہم تتلیاں اور جگنو پکڑتے رہے
بارش ایک پیاری دوست کی طرح
ہمارا ہاتھ بٹاتی رہی
جس دن درخت سے پہلا پتّہ گرا
میں اُسے اُٹھانے کے لئے جُھکی
پلٹ کر دیکھا
تو وہ جا چکا تھا
اب میں ٹوٹے ہوئے پتّوں میں
اپنے آنسو جمع کر رہی ہوں
مُجھے جان لینا چاہیے تھا
کہ اُس کا اور میرا ساتھ
موسمِ بہار تک ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






