مچل رہا ہے دل مِرا چہار سو ہی یاس ہے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadمچل رہا ہے دل مِرا چہار سو ہی یاس ہے
جو حوصلہ ہی دے سکے کوئی نہ آس پاس ہے
بساطِ جاں لپیٹ دی ہے عشقِ نامراد نے
کہ ہار ہے نہ جیت ہے ، نہ یاس ہے نہ آس ہے
نہ تَشنگی اُجاڑ دے ہنسا بسا چمن مِرا
خدایا معجزہ دکھا کہ دل بہت اداس ہے
بَجوگی کے نصیب پر نَوِشت تھی خزاں سدا
بہار پرجو مر مٹا تِرا ہی کوئی داس ہے
اُجاڑ لی ہے زندگی عبث ہی انتظار میں
وہ زیر لب یہ کہہ رہا ہے، یہ مرا قیاس ہے
سکونِ دل گیامِرا متاعِ جاں بھی لُٹ گئی
خُدا اِسے فنا کرے یہ عشق اصل ناس ہے
جو در کھلا ملا ہمیں وہ راستہ تھا دشت کا
ہے سانحہ یہ زندگی، خوشی ملی نہ راس ہے
سوال ہی تو زندگی میں ہر جگہ کھڑے ملے
نظر نظربھٹک رہی جواب کی پیاس ہے
ہے پوچھتا کوئی اُسے کہ کون ہے ر َضا ترا
کہے ہے کوئی سر پھرا کہ عام ہے نہ خاص ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






