مگر تمہیں کیا
Poet: Moshin naqvi By: NS, lahoreمیں آڑے ترچھے خیال سوچوں
کوئی بے ارادہ کتاب لکھوں
کوئی شناسا غزل تراشوں
کوئی اجنبی انتساب لکھوں
گنوا دوں اک عمر کے زمانے
کہ اک پل کا حساب لکھوں
میری طبیعت پہ منحصر ہے
میں جس طرح کا نصاب لکھوں
یہ میرے اپنے مزاج پر ہے
عذاب سوچوں ثواب لکھوں
طویل طر ہے سفر تمہیں کیا
میں جی رہا ہوں مگر تمہیں کیا
مگر تمہیں کیا کہ تم تو کب سے
میرے ارادے گنوا چکے ہو
جلا کے سارے حروف اپنے
میری دعائیں بجھا چکے ہو
میں رات اوڑھوں کہ صبح پہنوں
تم اپنی رسمیں اٹھا چکے ہو
سنا ہے کہ سب کچھ بھلا چکے ہو
تو پھر میرے دل پر جبر کیسا
یہ دل تو حد سے گزر چکا ہے
گزر چکا ہے مگر تمہیں کیا
خزاں کا موسم ٹھر چکا ہے
ٹھر چکا ہے مگر تمہیں کیا
مگر تمہیں کیا کہ اس خزاں میں
میں جس طرح کے بھی خواب لکھوں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






