میرا رقیب بہت پیارا ہے
Poet: Arooj Fatima(Lucky) By: Arooj Fatima(Lucky), K.S.Aمیرا رقیب بہت پیارا ہے
تبھی تو وہ دیکھ کر دل ہارا ہے
اتنی وفاؤں کے بعد بھی مجھے بھول گیا
میرے جینے کا تو وہی سہارا ہے
ُاسے کیونکر ہو گئی اب میری فکر ؟
بازی عشق میں وہ مجھے ہی تو ہارا ہے
میں بدُعا نہیں دیتی مگر اب ُدعا بھی نہیں
میرا نازک سا دل ُاس نے مارا ہے
کہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں اپنی ذات کو
چاروں طرف طوفان ہیں نجانے کہاں کنارہ ہے
کیا دعایئں بھی ہوتی ہیں قبول لکی
میں نے تو وصل بھی سجدوں میں گزارا ہے
اے جانے والے مڑ کر تو دیکھا ہوتا
کسی نے تیرے آنے کا راستا نہارا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






