میری بے لوث محبت کی کا تم بھی سزا دو گے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , Saudi Arabiaمیری بے لوث محبت کی کا تم بھی سزا دو گے
اس دنیا کی نظر میں کیا مجھ کو گرا دو گے
وہ سارے عہد اور پیار کی باتیں
سچ بتاؤ کیا سب کو ہوا میں ُاڑا دو گے
میں کس سزا میں ہوں قصور سمجھ نہیں آتا
میری خاموشی پر کیا مجھے سولی پر چڑھا دو گے
تمہارے جانے کی دیر تھی سب نے بدل لی نگاہیں
دور جا کر کیا اب مجھے اب یوں بھی سزا دو گے
مارچ کے مہینے کا دیکھوں آغاز ہو گیا
اب بہاروں کے موسم میں کیا مجھے خزا دو گے
خدا سے ُامید رکھنا یقین ہیں میرا
کا نہیں آکر میرے یقین کی دیوار کو گرا دو گے
غلط فہمیوں میں نا رہو یہ قدرت کی باتیں ہیں
اپنی تقدیر سے کیا میرا نام کر ُجدا دو گے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






