میری ذات اپنی ہی تلاش کرتی ہے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaجدائی پے تیری
ان آنکھوں میں آنسو تو نہیں آئے
مگر میرے دل کی ویرانی
بین کرتی ہے
میری سوچیں صبح کو نکلتی ہیں
اک لمبی مسافیت پر
اور رات دیر تک
واپس نہیں آتی
یہ شاید تجھے تلاش کرتی ہیں
یہ اک اک دن کیا
یہ تو تیرے بغیر بیتے
ایک ایک لمحے کی بھی بات کرتی ہیں
ان کا پاگل پن تو دیکھ
تجھ سے دور
ہر سانس کو شمار کرتی ہیں
میرے اندر کچھ جل رہا ہو جیسے
اک لاوا پک رہا ہو جیسے
میرے اندر اب
اک تلخی آداب کرتی ہے
مجھے یوں اجڑا دیکھ کر
بار بار تنہائی سلام کرتی ہے
تیرے یوں چھوڑ جانے سے
یوں تو کچھ نہیں بدلا بس
اب میری ذات اپنی ہی تلاش کرتی ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






