میری محبت کی تو فقط میں ہی گواہ ہوں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaہم کہاں اس قابل تھے
چلو اچھا ہوا تم خودی چھوڑ گیے
ہم تو صدا سے تنہا تھے
کیا ہوا جو پھر تنہا ہو گیے
اپنے عہد تم نے کیا نبھانے تھے
جبکہ اک بھروسہ ہی تم توڑ گیے
زندگی اتنی آسان نہیں جتنی تم کہتے تھے
ہم سے بدلنا تھا راستہ تبی تو دوسرا راستہ دیکھا گئے
جب تم یہ کہانی مکمل نہیں کر سکتے تھے
تو پھر کیوں مجھے مکمل خواب دیکھا گیے
میری محبت کی تو فقط میں ہی گواہ ہوں
مگر میری ُاداسی کو تم زمانے سے ملوا گیے
دل روتا ہیں مگر آہ نہیں کرتا کیونکر تم
تو جاتے جاتے اس پر ہی الزام لگا گیے
ہم سے دور تو تم کب کے ہو چکے تھے
شاید ہم ہی انجانے میں تمہارے قریب آ گیے
تم کیا ہو اور مجھے کیا بن کے ملے
میری زندگی کو تو تم تماشا بنا گئے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






