میرے تو غم کا قصہ ہی عجب ہے
Poet: Fatima Ibraheem By: Fatima Ibraheem, Lahoreمیرے تو غم کا قصہ ہی عجب ہے
محبت سے عداوت ہو گئی ہے
سرور زیست تھیں جو ساری یادیں
اب اذیت ہی اذیت بن گئی ہیں
بڑھا دیتی تھی جو وقار میرا
وہ وجہ اب ندامت بن گئی ہے
کتابوں کی فصیلیں گرد میرے
سکوں کا راستہ روکے کھڑی ہے
شعور زندگی کا کیا کروں میں
مجھے دنیا سے وحشت ہو رہی ہے
کرشمہ ساز نہیں ہیں لفظ میرے
اور راز اشتہاری ہو رہی ہے
تلخ سی اک حقیقت ذہن میں تھی
اب کاغذ پر عبارت ہو رہی ہے
میرے لوگوں کی خوشیاں اور ان کے سب معیار
کچھ میری بے قراری یوں بھی ذیادہ ہو رہی ہے
ارفع و اعلی ہوں ڈھب زندگی اور بعد اسکے
جہد کے نام پر بس دنیا داری ہو رہی ہے
ہر اک الجھاؤ جب سلجھا کے رکھ دوں
اجازت ہے اجل کو تب ہی آئے
میں وہ نہیں ہوں رب سے جو یہ کہدے
مصائب میں گھرا ہوں مجھے موت آہے
میرے انداز سے حیرت میں کیوں ہو
سکوں پا لینے کی یہی تو صورت رہ گئی ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







