میرے شیخ کی عنایت
Poet: NADIA TARIQ By: NADIA TARIQ, LAHOREمیری خواہشوں کا مرکز
میری زندگی کا محور
میرے من میں رب کی چاہت
میرے شیخ کی عنایت
ہوا رازِ حق عیاں بھی
وہ مکیں بھی لا مکاں بھی
سنی غیب کی حکا یت
میرے شیخ کی عنایت
بڑھی پیاس بھی، طلب بھی
ہوا عشق کا سبب بھی
ملی دید کی جو لذت
میرے شیخ کی عنایت
ملا قرب جو خدا کا
یہ کرم ہے اس نگاہ کا
یہ بشارت و زیا رت
میرے شیخ کی عنا یت
ہوئے جب وہ اپنےرہبر
بنی میں وفا کی پیکر
ہے یہ جذبہء اطاعت
میرے شیخ کی عنایت
اسی در کی جو گدا ہوں
فقط طالبِ خدا ہوں
یہ انھی کی ہے کرامت
میرے شیخ کی عنایت
یہ کرم ہے انکا، احساں
ہوئی حق کی مجھ کو پہچاں
یہ بصیرت و بصارت
میرے شیخ کی عنایت
طاغوت سے چھڑایا
مجھے اپنا پھر بنایا
مِلی روح کی وراثت
میرے شیخ کی عنایت
کٹا ظلمتوں سے رشتہ
ملا روشنی کا رستہ
ہوئی مجھ پہ رب کی رحت
میرے شیخ کی عنایت
دھلی روح کی غلا ظت
مٹی نفس کی نجاست
ہوا قلب با طہا رت
میرے شیخ کی عنا یت
ہٹا غفلتوں کا پردہ
ملا پھر سرورِ سجدہ
ہاں یہ لذتِ عبادت
میرے شیخ کی عنایت
اٹھی نفرتوں کی چلمن
بنا دوست جو تھا دشمن
ملی اس کو بھی ہدایت
میرے شیخ کی عنایت
کیا کوب میری قسمت
ہوئی مجھ کو ان سے نسبت
ملی مجھ کو یہ سعادت
میرے شیخ کی عنایت
ان کے قدم کا بوسہ
میری آخرت کا توشہ
کبھی ہو مجھے اجازت
میرے شیخ کی عنا یت
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






