میرے غافل کو دیدہ ء بینا دے دے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadمیرے غافل کو دیدہ ء بینا دے دے
یا مجھ کو ہی جینے کا قرینہ دے دے
بحرِ ہجراں میں ڈوب جانے دے
یا راحتِ وصل کا سفینہ دے دے
چاہےدید کے اک لمحے کے بدلے
بھلے مجھ کو غم کا مہینہ دےدے
میری انکھوں میں خود کو مجسم دیکھے
اسکو میری نگاہ کا آئینہ دے دے
سنگ ہاتھوں میں اٹھایا ہے اس نے
مجھ کوبھی دلِ آبگینہ دے دے
یوں جینے سے سو بار کا مرنا اچھا
دینا ہے تو عشق کا جینادے دے
آگئی ہے راس دلگدازی اس کی
مجھ کو وہ شوخ حسینہ دے دے
لے چلے مجھ کوجو دل میں اس کے
میرے ہر گام کو وہ زینہ دے دے
میں نے تو چھپا رکھے ہیں آنسو اپنے
میرا تبسم اسےآگہی نہ دے دے
سمو لے جو سبھی زخم اپنے اندر
درد کے ساتھ وہ سینہ دے دے
متائے دنیا سے رضا کیسی غرض
دل کوالفت کا خزینہ دے دے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






