میں اک ہوا ہوں مجھے کیسے روک پاؤ گے
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore pakistanمیں اک ہوا ہوں مجھے کیسے روک پاؤ گے
میں چل ہی دوں گا عبث مجھ سے دل لگاؤ گے
سمندروں پہ ، پہاڑوں پہ ہے گزر میرا
سفر طویل ہے تم تھک کے لوٹ جاؤ گے
ہوا ہے آندھی بھی اتنا خیال کر لینا
ہوا کی چاہ میں گھر کو بچا نہ پاؤ گے
تمھیں وفا نہ ملے گی کبھی زمانے سے
وفا کے نام پہ کب تک فریب کھاؤ گے
زباں کو شعلہ بنا لو یا خود کشی کر لو
یوں بار زیست بھلا کب تلک اٹھاؤ گے
ہنسی ہو پھیکی تو چھپتا کہاں ہے درد کوئی
یہ ہو گا اور عیاں یوں جو مسکراؤ گے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







