میں نہیں آؤں گا
Poet: Haatib Siddiqui By: Bakhtiar Nasir, Lahoreکہکشاں سے کہو اب بلائے نہیں میں نہیں آؤں گا
رات میرے لئے جگمائے نہیں میں نہیں آؤں گا
دل ہی دل میں کوئی اب پکارے نہیں اب نہیں لوٹنا
کوئی پلکوں میں آنسو چھپائے نہیں میں نہیں آؤں گا
کوئی سینے سے نکلی ہوئی آہ میں نام مت لے میرا
کوئی غزلیں میری گنگنائے نہیں میں نہیں آؤں گا
شام رنگ حنائی بکھیرے نہیں مجھ کو رکنا نہیں
صبح نو اس قدر جھلملائے نہیں میں نہیں آؤں گا
یہ بجا ہے کہ میں اسکو گریہ کناں دیکھ سکتا نہیں
پھر بھی کہہ دو کہ وہ مسکرائے نہیں میں نہیں آؤں گا
دھوپ اونچے مناروں سے حاطب مجھے اب صدائیں نہ دے
ابر تر اپنے آنسو گرائے نہیں میں نہیں آؤں گا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







