میں کون ہوں؟
Poet: By: Sajjad Hussain Shahzada, Peshawarمیں کون ہوں
مجھے کیا پتا
کوئی سایہ ہوں
جو بھٹک گیا
میں کہا چلوں
میں کہا رکھوں
مجھے منزلوں
کا پتا نہیں
مجھے راستو
کی خبر نہیں
میں بھٹک گیا
کسی راہ میں
میرے چار سو
ہے روکاوٹیں
میں جو چلتا ہو
مجھے ڈستی ہیں
یہی راستے
مجھے تکتی ہے
کہے کیوں!
تم آج اکیلے ہو
تیرا دوست آج کہا گیا
جو تیرے ساتھ ہوتا تھا ہر سمے
وہ کیا ہوا
وہ کدھر گیا
اسے کس نے تم سے جدا کیا
میں بھی چپ وہاں سے گزر گیا
میں نے کھچ بھی ان سے کہا نہیں
میں نے ماضی کی سبھی یادو کو
انہی راستو میں دفن کیا
اور
یونہی گن گناتا
چلے چلا
میں کون ہوں
مجھے کیا پتا
مجھے کیا پتا
میں کون ہوں؟
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






