نئی کہانی، نیا فسانہ، نئے ہی لوگوں میں آنا جانا
Poet: رشید حسرتؔ By: Sad Shayari, Quettaنئی کہانی، نیا فسانہ، نئے ہی لوگوں میں آنا جانا
کہاں سے سِیکھا مِرے سِتمگر کِسی کا دل یُوں دُکھانا۔ جانا
تُجھے ہے جانا جو روند کر یُوں محبتّوں کو تو شوق سے جا
مِری عقِیدت میں کیا کمی تھی سبب خُدارا بتانا۔ جانا
یہ کِس نے تُجھ سے کہا کہ تُجھ سے بِچھڑ کے جِیون خزاؤں جیسا
تِرے ہی غم کی بہار کو ہی تو دوست میں نے خزانہ جانا
مجھے محبّت کی چار دن کی کہانی پہلے ہی کُھل چُکی تھی
اِِسی لیئے اپنی زِندگی میں تو تیرے آنے کو جانا جانا
بجا کہ تُجھ کو عقِیدتوں کےنئے خزانے مِلا کریں گے
ملال ہو گا سماں بہاروں کا چھوڑ کر تُو سُہانا جا۔نا
مُجھے ہے ناموس و نامِ آبا کی پاسداری مِرے رفِیقو
مِرے لِیئے ہے بڑا ہی اعزاز اُن کے ناموں سے جانا جانا
رشِیدؔ کیسی یہ اُلجھنیں ہیں، نجانے کیا روگ پالتا ہے
جو جان تُجھ پر چِھڑک رہے ہیں، کہیں سِتم اُن پہ ڈھا نہ جانا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






