نرم تاروں کی روشنی میں ہم
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Readingنرم تاروں کی روشنی میں ہم
بھیگے بیٹھے ہیں چاندنی میں ہم
سن کے سازِ فضا ہوئے بیخود
کھو گئے اس کی دلکشی میں ہم
بھول بیٹھے ہر ایک مقصد کو
کھو گئے کیسی زندگی میں ہم
دیکھتے ہیں سنگھار کی صورت
آج بھی تیری سادگی میں ہم
جانے کیا کہہ گئے مرے ہمدم
آج اپنی ہی بیخودی میں ہم
کھو دیا تھا کہیں وجود اپنا
خود کو ڈھونڈیں گے شاعری میں ہم
ہم نے کھویا تھا جیس جگہ خود کو
اب نہ جائیں گے اس گلی میں ہم
تیری باتوں کی چاشنی میں ہم
جانے کیونکر سلگتے رہتے ہیں
ٹھنڈی ٹھنڈی سی چاندنی میں ہم
کھیل ہی کھیل میں نہ جاں جائے
کھو نہ دیں دل ہی دل لگی میں ہم
جانے کب لوٹ کر وہ آئیں گے
راہ تکتے ہیں بے بسی میں ہم
ان کو احساس تک نہ ہو پایا
لٹ گئے اپنی سادگی میں ہم
کاش ہم لوگ یہ سمجھ پائیں
پائیں گے خود کو بندگی میں ہم
ساتھ ہو گا نہ جب کوئی اپنا
روئیں گے اپنی بے بسی میں ہم
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






