ننّھی مُنھی چڑیا۔۔۔ (پیاری بیٹی مہک نسیم کی یاد میں)
Poet: Tariq Iqbal Haavi By: Tariq Iqbal Haavi, Lahoreسُونے آنگن کے پیڑ پر
اک چڑیا اک دن آ بیٹھی
اُس آنگن کے ہر باسی کے
وہ دل میں گھر بنا بیٹھی
اُس چڑیا کے یوں آنے سے
ہر ڈال پہ آئی ہریالی سی
وہ چڑیا ننھی منھی سی
وہ چڑیا بھولی بھالی سی
ہر حرکت جس کی دلکش تھی
تھی ہر ادا نرالی سی
ہر صبح وہ سب کو جگاتی تھی
اور میٹھے گیت سناتی تھی
معصوم شرارتوں سے اپنی
وہ سب کا دل بہلاتی تھی
دن جتنے بھی وہ پاس رہی
بس خوشی ہی سب کو راس رہی
اک صبح پھر سب کو چھوڑ گئی
اور ساتھ کی ڈوری توڑ گئی
چند دن سبھی کو پیار دیا
چند دن ہی سب کو ہنسانا تھا
وہ کسی اور ہی دیس کی پنچھی تھی
اور اس کو لوٹ کے جانا تھا
ہر آنکھ اب اس کو ڈھونڈے ہے
ہر سانس اب اس کو ڈھونڈے ہے
آنگن سے اُڑ کے نہ آئی
وہ واپس مُڑ کے نہ آئی
اے چڑیا اُڑ کے آجاﺅ
تم واپس مُڑ کے آجاﺅ
اے چڑیا اُڑ کے آجاﺅ
اے چڑیا اُڑ کے آجاﺅ
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






