نٹ کھٹ سی اک لڑکی تھی،،،
Poet: arfat hussain By: arfat hussain, dubaiنٹ کھٹ سی اک لڑکی تھی
نام جس کا روپ تھا
درد چھپا کر ہنستے رہنا
اس لڑکی کا اصول تھا
پیار پھیلانا نفرتیں مٹانا
روُپ کا منشور تھا
بنا پیار کے جینا بھی
اسکی نظر میں فضول تھا
تھی وہ موسم بہار کا
یا مہکتا ہوا کوئی پھول تھا
پر مہکتے ہوئے اس پھول کو
جانے کس کی نظر کھا گئی
کھلنے سے پہلے ہی وہ
نوخیز کلی مرجھا گئی
اتنی سی عمر میں کیوں
الله نے واپس بلا لیا
اسکی کونسی نیکی یارو
رب کو اتنی بھا گئی
خواب ہو گئں خشیاں اور
محبتوں کی دنیا اجڑ گئی
وہ نٹ کھٹ سی لڑکی
اچانک ہم سے بچھڑ گئی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






