نہ آئے تم نہ ہوا میں تمہاری باس آئی
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKنہ آئے تم نہ ہوا میں تمہاری باس آئی
تمہارے در سے صبا آج پھر اداس آئی
ہر اک خوشی مری مشروط غم کے ساتھ رہی
جہاں میں کوئی خوشی بھی نہ مجھ کو راس آئی
کھڑی رہی یونہی پیاسی لبِ سمندر میں
مرے لبوں سے مری آنکھ تک یہ پیاس آئی
میں کس طرح سے کروں اعتبار موسم کا ؟
خزاں پہن کے بہاروں کا پھر لباس آئی
ہوا میں پھیلی جو مانوس سی کوئی خوشبو
مرے وطن کی مجھے یاد پھر کپاس آئی
نظر اٹھا کے نہ دیکھا مجھے کبھی تو نے
بہار بن کے میں ہر بار تیرے پاس آئی
نجانے کیسی وہ پاکیزہ ساعتیں ہوں گی
کہ ماں کے حصے میں ممتا کی جب مٹھاس آئی
اس ایک شخص پہ عذراؔ نہیں ہے یہ موقوف
مجھے نظر سبھی دنیا ہی نا سپاس آئی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







