نہ ہوا وصال یار اک مدت گزر گئی ہے
Poet: SYED ISHTIAQ HUSSAIN KAZMI By: waqas shah, RAWALPINDIنہ ہوا وصال یار اک مدت گزر گئی ہے
اپنا دل ہے بیقرار اک مدت گزر گئی ہے
ہم جانے کس خزاں کے بگولوں میں کھو گئے ہیں
کہ دیکھی نہ پھر بہار اک مدت گزر گئی ہے
نغمے تو الفتوں کے سنسان ہو گئے ہیں
ٹوٹے ہیںدل کے تار اک مدت گزر گئی ہے
دل کے آثار اب تک ملتے نہیں کہیں بھی
ہم نے کیا تھا پیار اک مدت گزر گئی ہے
لگتا ہے غیر کوئی چال چل گیا ہے
میری قسمت میں ہے ہار اک مدت گئی ہے
اب سارا زمانہ بہرہ مردہ ضمیر کیوں ہے
ہمیں کرتے آہ وپکار اک مدت گزر گئی ہے
میرے سینے میں آکے کوئی آتش کدہ بسا ہے
مسکرائے تھے ہم بھی یار اک مدت گزر گئی ہے
اشتیاق تو بھٹک گیا ہے شاید الفت کے راستوں پر
تجھے بے یار ومدگار اک مدت گزر گئی ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






