نہیں اُلفت کا امکان رضا، تو لے لو میری جان رضا

Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabad

نہیں اُلفت کا امکان رضا، تو لے لو میری جان رضا
اِس دنیا کے دستور انوکھے، ہونا کیا حیران رضا

اِس نگری کے لوگ عجب،اِنکے ریت رواج غضب
اور کہیں اب چلتے ہیں، بنتے ہیں مہمان رضا

نابینوں کی بستی میں، غرض وحرص کی مستی میں
تم میں ایسی بات ہے کیا، رکھے تیرا مان رضا

یہاں بھیڑ بہت ہے اپنوں کی من کے میلے رشتوں کی
کیوں اُلٹی سیدہی سوچوں سے ہوتے ہو پریشان رضا


محفل میں بھی جی نہ لگے اور تنہا پن بھی کاٹے
کوئی تو ایسا گوشہ ہو جہاں جینا ہو آسان رضا

جب جینا مشکل ہو جاے ، آس کا سورج ڈھل جائے
پھر دل سے آہ نکلتی ہے تواُٹھتے ہیں طوفان رضا

Rate it:
Views: 1333
16 Oct, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL